Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
279 - 691
حجۃ الوداع میں صدیق اکبر کی رفاقت
ہجرت کے دسویں سال نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے عزم حج فرمایا، اس حج کا نام حَجَّۃُ الۡوَدَاع ہے۔اس سفر حج میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم رکاب تھے ۔ دوسرے بہت سے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بھی ساتھ شریک تھے نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّبھی ساتھ ہی تھیں۔اس حج کے موقع پر میدان عرفات میں مسلمان بہت بڑی تعداد میں جمع تھے۔ یہ وہی مقام تھا، جہاں کچھ عرصہ قبل قریش کا کوئی شخص آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہم کلام ہونا بھی پسند نہ کرتاتھا لیکن خدا کی قدرت ہے کہ آج یہاں ایک لاکھ سے زیادہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جمع تھے۔ اس حجۃ الوداع کے موقع پر مختلف صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوکر مختلف مسائل بھی پوچھ رہے تھے۔		    
(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب حجۃ الوداع، ج۳، ص۱۳۷، سیرت سید الانبیاء، ص۵۶۲)
حجۃ الوداع کے اسماء اوران کی وجہ تسمیہ
۱۰سن ہجری میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حج ادا فرمایااسے حَجَّۃُ الوَدَاع،حَجَّۃُ الاِسلام، حَجَّۃُ البَلَاغ، حَجَّۃُ التَّمَام وَالکَمَالبھی کہتے ہیں۔(۱)حجۃ الوداع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو الوداع کہا اور وصیت فرمائی کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا نیز صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے گواہی لی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  اللہ 
عَزَّ وَجَلَّ کے پیغامات ان تک پہنچادیے ہیں۔(۲) حجۃ الاسلام کہنے کہ وجہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں حج کی فرضیت کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف یہی حج کیا۔ (۳) حجۃ البلاغ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نبیٔ کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے احکام شرع لوگوں تک