Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
278 - 691
پائیں۔‘‘حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمعرج کے مقام پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے جاملے ۔عرج مدینہ منورہ سے دور ۷۸ میل کے فاصلے پر ایک بستی کا نام ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، اختصاص الرسول علیا۔۔۔الخ، المجلد الثانی، ص۴۶۱)
اونٹنی کی بلبلاہٹ 
عرج کے مقام پر صبح کے وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اونٹنی مبارکہ کی بلبلاہٹ سنی تو فرمایا:’’یہ تو قصواء کی آواز ہے۔‘‘ (بعض روایات میں عضباء کا ذکر ہے یہ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اونٹنی تھی)دیکھا تو حضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس پر سوار تھے ان سے پوچھا گیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو حج کا امیر بنایا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا :’’میں امیر نہیں بلکہ مامور ہوںاور مجھے تو سورت براءت لوگوں کے سامنے پڑھنے کے لیے بھیجاگیا ہے نیز لوگوں کے ساتھ معاہدوں کے خاتمے کے لیےروانہ کیا ہے۔‘‘ (مدارج النبوۃ، ج۲، ص۳۷۸، سیرت سید الانبیاء، ص۵۳۳)
ایک اہم وضاحت
یاد رہے کہ یہ حج حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَمارت میں ادا کیا گیا تھا۔کفار سے معاہدہ کے خاتمے کا اعلان اگرچہ خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی کرسکتے تھے لیکن نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیجا کیونکہ عرب کا دستو ر تھا کہ جب کسی معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرنا ہوتا تو معاہدہ کرنے والا خود آتا یا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس کی طرف سے آکر اعلان کرتا۔ اہل بیت نبوی میں چونکہ حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہی سب سے افضل تھے اس لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انتخاب کیا گیا۔	
				(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، اختصاص الرسول علیا۔۔۔الخ، المجلد الثانی، ص۴۶۱)