Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
277 - 691
ہوکرمکہ مکرمہ پہنچے۔نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کے ساتھ بیس (۲۰)اونٹ روانہ فرمائے ان کے گلوں میں اپنے دست اقدس سے ہار ڈالے اور ان پر نشان لگائے، ان اونٹوں پر حضرت سیدنا ناجیہ بن جندب اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نگران مقرر فرمایا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پانچ (۵)اونٹ اپنی طرف سے بھی ذبح کرنے کے لیے ساتھ لے لیے۔حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی اس سال حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ حج کیا اور ہدی کے کئی جانور ساتھ لے لیے۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، حج ابی بکر بالناس۔۔۔ الخ، الحدیث:۴۳۶۳، ج۳، ص۱۲۸، سیرت سید الانبیاء، ص۵۳۳، مدارج النبوۃ، ج۲، ص۳۷۷)
سرکارنے حج کیوں نہ کیا؟
اس سال نبی اکرم نور مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوات کے معاملے میں انہماک، مختلف وفود کی آمد اور ان کو احکام شرعیہ سکھانے کی مصروفیت کے باعث حج میں شرکت نہ فرماسکے، اس لیے اپنی جگہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو امیر الحج مقرر فرمایا۔(مدارج النبوت، ج۲، ص۳۷۷)
سورۂ براءۃ کےلیےحضرت علی کی روانگی
نبیٔ کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو روانہ فرمایاتاکہ لوگوں کو سورت برأت پڑھ کر سنائیں اور یہ اعلان کریں کہ اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا اور نہ کوئی برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف کرسکے گا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے حج کو روانہ ہونے سے تھوڑا عرصہ پہلے اسی سال پارہ۱۰سورۃ التوبہ کی آیت نمبر۲۸ نازل ہوئی: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ) ترجمۂ کنزالایمان:’’اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے