جَیش صدیق اکبر
کئی مشرکین کو واصل جہنم کیا
حضرت سیدناسلمہ بن اکوع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوایک لشکرکا سپہ سالار مقرر کرکےکفار کی سرکوبی کے لئے روانہ کیاتومیں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لشکر میں شامل تھا، ہم نے کئی مشرکین کو قتل کیااوربہت سےقیدی بھی بنے۔ہم نےکسی مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کو باخبر رکھنے کے لئے اَمِت اَمِتکے الفاظ مقرر کررکھے تھے۔میرے ہاتھ سے سات مشرکین جہنم رسید ہوئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بنی فزارہ سے جہادکے لئے روانہ فرمایا اس وقت بھی میں آپ کے ساتھ تھا،جب ہم پانی کے قریب پہنچےتوحضرت سیدناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےرات وہاں قیام کیا، نمازفجراداکرنے کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حملہ کرنے کا حکم دیا،ہم نےمشرکین پر بھرپور حملہ کیا اس جنگ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھوں کئی مشرکین واصل جہنم ہوئے۔‘‘ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،سریۃ ابی بکر الصدیق الیٰ بنی کلاب بنجد،ج۲، ص۹۰)
صدیق اکبرمسلمانوں کے امیر الحج
صدیق اکبرپہلےامیر الحج
۱۱رمضان المبارک سن ۸ ہجری کو فتح مکہ ہوئی اور فتح مکہ کے اگلےسال یعنی ۹ ہجری ذی قعدہ کے مہینے میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی جگہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو امیر الحج مقرر فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تین سو(۳۰۰ )مسلمانوں کے ساتھ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ