Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
275 - 691
سیدنا صدیق اکبرکا ایمان افروز تبصرہ
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک تھا۔ ایک دفعہ میں آدھی رات کے وقت اٹھا تو میں نے لشکر میں ایک جانب کچھ روشنی دیکھی۔ میں صورت حال معلوم کرنے کے لیے ایک طرف گیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا موجود ہیں اور سیدنا عبد اللہ ذوالبجادین مزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وفات پاچکے ہیں۔ انہیں دفن کرنے کے لیے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  قبر کھود چکے ہیں ۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی قبر مبارک میں بنفس نفیس خود اترے ہوئے ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاان کی میت کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب قبر میں اتار رہے ہیں جبکہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمارہے ہیں: ’’اَدْنِیَا اِلٰی اَخِیْکُمَا یعنی اسے اپنے بھائی کے قریب کردو۔ ‘‘چنانچہ انہوں نے ان کی میت کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف بڑھا کرنیچے اتار دیا۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی میت کو پہلو کے بل کیا تو فرمایا: ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَمْسَیْتُ رَاضِیاً عَنْہُ فَارْضِ عَنْہُ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں اس آخری رات تک اس سے راضی تھا، تو بھی اس سے راضی ہوجا۔‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےیہ روح پرور منظر دیکھ کر اپنے ایمان افروز جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یوں فرمایا: ’’وَاللہِ لَوَدَدْتُ أَنِّيْ صَاحِبُ الْحُفْرَةِیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ اس قبر میں عبد اللہ ذوالبجادین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی جگہ میں ہوتا۔‘‘
(المعجم الاوسط، من اسمہ مسعدۃ، الحدیث:۹۱۱۱، ج۶، ص۳۷۱،حلیۃ الاولیاء، الحدیث:۳۷۲، ج۱، ص۱۶۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد