Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
274 - 691
 وَسَلَّم نے قائدین ، جرنیلوں اور کمانڈروں کو منتخب فرمایا اور انہیں مختلف جھنڈے عطا فرمائے اس موقع پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو سب سے بڑا جھنڈا عطا فرمایا۔ مگردور دور تک رومی لشکروں کا کوئی پتا نہیں چلا۔ واقعہ یہ ہوا کہ جب رومیوں کے جاسوسوں نے قیصربادشاہ کو خبردی کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک میں آ رہے ہیں تو رومیوں کے دلوں پر اس قدر ہیبت چھا گئی کہ وہ جنگ سے ہمت ہار گئے اور اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیس دن مقام تبوک میں قیام فرمایا اور اطراف و جوانب میں افواج الٰہی کا جلال دکھا کر اور کفار کے دلوں پر اسلام کا رعب بٹھا کر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اور تبوک میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ (مدارج النبوت،ج۲،ص۳۴۹مختصراً، تلقیح فھوم اھل الاثر لابن جوزی، باب  تسمية المشهورين بالذكر من أصحاب رسول الله ۔۔۔الخ، ص۷۴، تاریخ مدینۃ دمشق، ج۲، ص۳۶)
خوش بخت صحابی
غزوۂ تبوک میں حضرت سیدنا عبد اللہ ذوالبجادین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سوا نہ کسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت ہوئی نہ وفات ہوئی۔ حضرت سیدنا عبداللہ ذوالبجادین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک غریب مہاجر تھے اور اصحاب صفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے تھے۔ یہ غزوۂ تبوک میں شامل ہوئے اور ان کو بخار آگیا۔ بوقت وفات ان کے پاس دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تشریف لائے تو انہوں نے بڑی حسرت سے عرض کیا:یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا مقصد شہادت ہی ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے لیے دعا فرمادی ہے کہ’’ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے اس کے خون کو کفار پر حرام کردیا ہے۔‘‘تو کیا میں شہادت سے محروم رہوں گا؟  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم جہاد کے لیے نکلے ہو تو اگر بخار میں بھی مرجاؤگے تو بھی تم شہید ہی ہو گے۔‘‘ اس کے بعد بخارہی میں حضرت سیدنا ذوالبجادین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوگیا۔ (مدارج النبوۃ، ج۲، ص۳۷۷)