سفر ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ وہاں ہمیں اس قدر شدت کی پیاس لگی کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ ہمارا وقت اجل قریب آپہنچاہے۔ پیاس کی شدت سے ہم اس حد تک مجبور ہوگئے کہ ہم میں سے کوئی آدمی پیاس بجھانے کے لیے اپنا اونٹ ذبح کرتا اور اس کی اوجھڑی کو نچوڑ کر اس میں سے نکلنے والے پانی کو پی لیتا اور جو پانی باقی بچتا اسے اپنے پہلو پر باندھ لیتا۔ مسلمانوں کی یہ حالت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دیکھی نہ گئی اور وہ مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں درخواست کی:’’یَارَسُوْلَ اللہ!اِنَّ اللہَ قَدْ عَوَّدَکَ فِی الدُّعَاءِ خَیْراً فَادْعُ اللہَ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول! یقینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا کو قبول فرماتاہے، اور آپ کو خیروبرکت سے نوازتاہے لہٰذا آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا فرمائیے۔‘‘رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اَتُحِبُّ ذٰلِکَ؟ ‘‘ یعنی اے ابوبکر ! کیا تمہاری اسی میں خوشی ہے۔‘‘عرض کیا: ’’جی ہاں یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!‘‘چنانچہ نبیٔ کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھا دیے اوردعا مانگ کر ابھی ہاتھ نیچے بھی نہ کیے تھے کہ آسمان پر ابر رحمت گرجنے لگا، پہلے ہلکی ہلکی بارش ہوئی، پھر موسلادھار بارش برسنے لگی۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنے برتنوں کو پانی سے بھر لیا۔حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ معجزہ تھا کہ جہاں ہم تھے صرف وہیں بارش ہورہی تھی ہمارے ارد گرد بارش کا نام ونشان نہیں تھا۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب الطھارۃ، معجزۃ النبی فی نزول الماء۔۔۔الخ، الحدیث:۵۸۲، ج۱، ص۳۸۴، سیرت سید الانبیاء، ص۱۷۴)
سب سے بڑا جھنڈا صدیق اکبر کے ہاتھ میں
دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تیس ہزار مجاہدین کا لشکر تھا جب لشکر اسلام رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قیادت میں ثنیۃ الوداع نامی مقام پر جمع ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ