کیا بات اجاگر کہتے ہیں صدیق اکبر میرے ہیں
جب جاگے گا قلب مومن ہر دل سے صدا یہ آئے گی
صدیق اکبر میرے ہیں صدیق اکبر میرے ہیں
تبوک اور اس کا دشوارگزار راستہ
غزوۂ تبوک تنگی وترشی اور موسم گرما کی شدت وحرارت کے زمانہ میں پیش آیا نیز علاقہ خشک سالی کی لپیٹ میں تھا اور پھل پک چکے تھے۔ لوگوں کو پھلوں اور سایہ دار درختوں میں قیام پسند تھا۔ اس حالت میں سفر کرنا سب ناپسند کرتے تھے علاوہ ازیں ان کے پاس زاد راہ اور سواریوں کی قلت تھی۔ تبوک تک پہنچنے کے لیے شام کے عظیم صحراء کو طے کرنے میں چالیس روز چلنا پڑتاہے اور اتنے ہی ایام واپسی پر لگتے تھے۔جہاں نہ کوئی درخت ہے اور نہ سایہ،پانی بھی بہت کم مقدار میں دستیاب ہوتاہے، لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان نفوس قدسیہ کے دلوں کو مضبوط رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کو جَیْشُ الْعُسْرَۃ (تنگ دستی کا لشکر) بھی کہتے ہیں اور چونکہ منافقوں کواس غزوہ میں بڑی شرمندگی اورشرمساری اٹھانی پڑی تھی۔ اس وجہ سے اس کا ایک نام غزوہ فَاضِحَہ(رسوا کرنے والا غزوہ) بھی ہے ۔ یقیناً ایسے کٹھن راستے میں مسلمانوں کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً پانی کی قلت نے تو سبھی کو پریشان کردیا اور حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہ رسالت میں دعا کے لیے عرض گزار ہوئے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خصوصی کرم فرمایا۔چنانچہ،
صدیق اکبراورمسلمانوں کی خیرخواہی
حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کے لیے نکلے۔ دوران