Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
271 - 691
صدیق کے لیے ہے خدا اور رسول بس
دے کے سب کچھ پھر بھی بچ گیا میرے لیے
اک خدا میرے لیے، اک مصطفےٰ میرے لیے
مرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمت عالم
میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لیے
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے دیکھا کہ اتنے میں خالق کائنات کے قاصدِ خصوصی حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ویسا ہی لباس زیب تن کیے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے جو عاشق اکبر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے زیب تن فرمایاہواتھا۔سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ’’اے جبریل!یہ کیا پہنا ہوا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آج تمام فرشتوں کو بھی حکم فرمایاہے کہ آج ویسا ہی لباس پہنیں جیسا آپ کے عاشق صادق نے پہناہواہےاور ساتھ ہی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں سلام ارشاد فرماتا ہے اوراستفسار فرماتاہے کہ یہ اپنے رب سے اس حال میں راضی ہیں یا ناراض؟‘‘ یہ پیغام محبت سنتے ہی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وجد میں آگئے اور ان پر رقت طاری ہوگئی ، عرض کیا:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں بھلا اپنے رب سے کیسے ناخوش ہو سکتا ہوں۔‘‘پھر تین بار فرمایا:’’میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں ،میں اپنے رب سے راضی ہوں۔‘‘  (سنن الترمذی، کتاب المناقب عن رسول اللہ، باب فی مناقب ابی بکر وعمر، الحدیث:۳۶۹۵، ج۵، ص۳۸۰،  تاریخ الخلفاء، ص۳۰، سنن الدارمی، کتاب الزکوۃ، باب الرجل یتصدق ما عندہ، الحدیث: ۱۶۶۰، ج۱، ص۴۸۰)
گھر بار لٹا کر کہتے ہیں اللہ  نبی ہی کافی ہے