Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
267 - 691
صدیق اکبر اور گھڑ دوڑ
گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ
۶ سن ہجری بمطابق ۶۲۷عیسوی میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے گھوڑوں کی دوڑ کرائی، سدھائے ہوئے گھوڑوں کے لیے دوڑ کا فاصلہ زیادہ رکھا اور غیر سدھائے ہوئے گھوڑوں کے لیے کم۔حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سدھائے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ حَیْفَاءسے شروع کرائی اور اس کی آخری حد ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع رکھی ، غیر سدھائے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بَنِی زُرَیْق تک کرائی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی اس دوڑ میں حصہ لیا۔حضرت سیدنا سفیان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حیفاءسے ثنیہ پانچ یا چھ میل ہے۔ جبکہ ثنیۃ الوداع اور مسجد بنی زریق کادرمیانی فاصلہ ایک میل ہے۔ اسی سال سرور کائنات فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اونٹوں کی دوڑ بھی کرائی ۔
صدیق اکبرکے گھوڑے کی جیت
اس گھڑ دوڑ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے گھوڑے نے بھی حصہ لیا اور وہ دوسرے گھوڑوں سے آگے نکل گیا اور اس نے سبقت حاصل کی، یہ دونوں دوڑیں اسلام میں سب سے پہلی دوڑیں تھیں۔
اعرابی کااونٹ سبقت لے گیا
اونٹوں کی دوڑ میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اونٹی ’’قصواء‘‘ نے بھی حصہ لیا، ایک اعرابی کا اونٹ ’’قصواء‘‘ سے سبقت لے گیا۔قصواء نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اونٹنی تھی ا س سے پہلے کوئی چوپایہ اس سے آگے نہ نکل سکا تھا، مسلمانوں پر یہ امر نہایت گراں گزرا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالٰی پر حق