Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
266 - 691
الرِّضْوَان میں سب سے بڑھ کر صائب الرائے اور عقل ودانش میں سب سے کامل تھے)
(کنزالعمال،کتاب الغزوات، غزوۃ الحدیبیۃ، الحدیث:۳۰۱۳۷،ج۵،  الجزء:۱۰، ص۲۱۷)
صلح حدیبیہ کےنتائج
اس صلح کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے فتوحات کا دروازہ کھل گیااور نورکے پیکر، تمام نبیوں کےسَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اگلے سال یعنی ۱۱رمضان المبارک ۸ ہجری کو بڑی شان وشوکت کے ساتھ تقریبا ًدس ہزار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ساتھ مدینۂ منورہ سے مکۂ مکرمہ کوروانہ ہوئے اورچند روز بعد ۲۰ رمضان المبارک کو فتحِ عظیم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اسی کا نام فتح مکہ ہے۔
رسول اللہ کا شاہانہ مدنی جلوس
مکۂ مکرمہ میں مسلمان اس شان سے داخل ہوئے کہ نبیٔ کریم،رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اونٹنی ’’قصواء‘‘پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔آپ کے پیچھے حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کے ایک جانب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور دوسری جانب حضرت سیدنااُسید بن حضیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ دو اُمہات المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ اور حضرت سیدتنا میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   بھی تھیں۔ آپ کے چاروں طرف جوش وخروش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا۔اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے اونٹنی پر بیٹھے تھے کہ آپ کا سرانور اونٹنی کے پالان سے بار بار لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع، خداوند ِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔ 
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ،کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح الاعظم،  ج ۳، ص ۴۳۲ -۴۳۴، سیرت سید الانبیاء، ص۴۶۳)