ہے کہ جس چیز کو رفعت عطا فرمائے اسے پستی دے دے۔ ‘‘ (سیرت سید الانبیاء، ص۳۹۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غزوۂ تبوک اور صدیق اکبر
ماہ رجب سن ۹ ہجری میں دو جہاں کے تاجوَر، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَغزوۂ تبوک کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ آخری مہم تھی جس میں سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس شریک ہوئے۔ تبوکملک شام کی جانب ایک جگہ کا نام ہے مدینہ منورہ اور اس کے درمیان چودہ روز اور دمشق اور اس کے مابین دس دنوں کا فاصلہ ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس مہم پر جمعرات کے روز مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۱۷۴)
غزوۂ تبوک کاسبب
عرب کا غسانی خاندان جو قیصر روم کے زیر اثر ملک شام پر حکومت کرتا تھا چونکہ وہ عیسائی تھا اس لیے قیصر روم نے اس کو اپنا آلۂ کار بنا کر مدینۂ منورہ پر فوج کشی کا عزم کرلیا۔ چنانچہ ملک شام کے جو سوداگر روغن زیتون بیچنے مدینہ شریف آیا کرتے تھے۔ انہوں نے خبر دی کہ قیصر روم کی حکومت نے ملک ِشام میں بہت بڑی فوج جمع کردی ہے۔ اور اس فوج میں رومیوں کے علاوہ قبائل لخم و جذام اور غسان کے تمام عرب بھی شامل ہیں۔ ان خبروں کا تمام عرب میں ہر طرف چرچا تھا اور رومیوں کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں تھی اس لیے ان خبروں کو غلط سمجھ کر نظر انداز کردینے کی بھی کوئی و جہ نہیں تھی۔ اس لیے حضور اکرم، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی فوج کی تیاری کا حکم دے دیا۔ چونکہ سخت گرمی کا موسم تھا اور راستہ بھی نہایت ہی دشوار گزار تھا اس لیے حضور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمام قبائل عرب سے فوجیں اور مالی امداد طلب فرمائی۔
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ ، ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۶۸۔۷۲)