Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
265 - 691
 اور واقعی آگے چل کر صلح حدیبیہ کا جو نتیجہ نکلا اس نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اطمینان قلبی کی مکمل تصدیق کردی۔
صحابہ میں سب سے بڑھ کرصائب الرائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسی صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صلح نامہ لکھا جا رہا تھا تو کفار قریش کے ترجمان سہیل بن عمرو نے معاہدے میں ’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘اور’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ کے بجائے’’محمد بن عبد اللہ‘‘ لکھنے کا اصرار کیا کہ یہ دونوں باتیں قریش تو تسلیم نہ کرتے تھے۔ بہرحال بعد میں کفار قریش کے یہی ترجمان سہیل بن عمر و مسلمان ہوگئے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہصلح حدیبیہ میں حکمت اور سیدنا سہیل بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر خیر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
 ’’دور اسلام میں کوئی بھی فتح، حدیبیہ کی فتح سے بڑھ کر عظیم نہیں ہے لیکن اس دن کئی لوگوں کی فہم وفراست اللہ تعالٰی اور اس کے نبیٔ کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مابین معاملے کو سمجھنے سے قاصر رہی، حقیقت یہ ہے کہ لوگ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالٰی ایسانہیں فرماتابلکہ وہ اس وقت تک مہلت دیتاہے جب تک معاملات اس مطلوبہ حد تک نہیں پہنچ جاتے جو وہ چاہتاہے۔ میں نے صلح حدیبیہ میں مشرکین کے ترجمان سہیل بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو حجۃ الوداع کے موقع پر دیکھا کہ وہ قربان گاہ کے قریب کھڑے ہیں اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قربانی کے اونٹ پیش کررہے ہیں، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ہاتھوں سے ان اونٹوں کو نحر کر رہے ہیں پھر جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سر کے بال منڈوائے تو میں نے دیکھا کہ سہیل بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے موئے مبارک چن چن کر اپنی آنکھوں پر رکھ رہے ہیں، جبکہ انہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘ اور ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ لکھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس منظر کا آنکھوں کے سامنے آنا تھا کہ میں بے اختیار اس   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کرنے لگا جس نے انہیں ہدایت اسلام سے سرفراز فرمایا۔‘‘(یقینا ًحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ