گے۔‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتےہیں کہ پھر میںحضرت سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آیا اور عرض کی: ’’اےابوبکر! کیا یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے نبی نہیں؟‘‘ فرمایا: ’’کیوں نہیں؟‘‘میں نے کہا: ’’کیاہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟‘‘ فرمایا: ’’یقیناً ایسا ہی ہے۔‘‘میں نے کہا:’’پھر ہم دین کے معاملےمیں اتنا دبائو کیوں تسلیم کررہے ہیں؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اے عمر!بلاشبہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں، اُس کے نافرمان نہیں ہوسکتے۔ یقینا ً اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِن کا مددگار ہے، آپ اپنی جگہ ثابت قدم رہیں۔خداکی قسم! وہ حق پر ہیں۔‘‘میں نے کہا: ’’کیا وہ یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم عنقریب طواف کعبہ کریں گے؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمانے لگے:’’کیوں نہیں، کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ فرمایا تھا کہ تم اسی سال طواف کرو گے؟ ‘‘میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’تو یقین رکھو تم آئندہ سال ضرورآؤ گے اوربیت اللہ شریف کا طواف کرو گے۔‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الشروط،باب الشروط فی الجھاد۔۔۔الخ،الحدیث:۳۷۳۱،۳۷۳۲،ج۲،ص۲۲۶تا ۲۲۷، تفسیر خزائن العرفان،پ۲۶، الفتح:۱، ص۹۳۹)
سیدنا صدیق اکبر کی مدنی سوچ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس اطمینان بخش جواب اور رویے سے بالکل واضح ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہصلح حدیبیہ اور اس کی تمام شرائط سے بالکل مطمئن تھے، اس کی سب سے بنیادی وجہ یہ تھی کہ صلح حدیبیہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے طےفرمائی تھی اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کسی بات سے اختلاف نہ کرتے تھے، انہیں یقین کامل تھا کہ یہ شرائط صلح کے لحاظ سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گی اور انہیں مان لینا چاہیے کیونکہ ان کی یہ مدنی سوچ تھی بلکہ تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی بھی یہی مدنی سوچ ہوا کرتی تھیکہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی کام مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا،