’’بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔‘‘
بیعت رضوان سے کفار خوف زدہ ہوگئے
بیعت کی خبر سے کفّار خوف زدہ ہوئے اور ان کے اہل رائے نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں ، چنانچہ صلح نامہ لکھا گیااور چونکہ یہ مقام حدیبیہ میں لکھا گیاتھا اس لیے ’’صلح حدیبیہ‘‘کے نام سے مشہور ہوگیا۔ صلح نامے میں یہ طے پایاکہ مسلمان اس سال واپس مدینے چلے جائیں اور اگلے سال آکر عمرہ کر لیں مسلمانوں کے لیے یہ شرط سخت تکلیف کا باعث تھی خصوصاًا حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خاص طور پر اسے مسلمانوں کی توہین سمجھا اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ چنانچہ،
صلح حدیبیہ پرصدیق اکبر کا اطمینان
حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ میں سیِّد عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے نبی نہیں؟ ‘‘فرمایا:’’کیوں نہیں۔‘‘ میں نےعرض کی: ’’کیاہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ ‘‘فرمایا :’’کیوں نہیں۔‘‘ میں نے عرض کی:’’ پھر ہم دین کے معاملہ میں اتنے پست کیوں ہو گئے؟‘‘سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں اور اس کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا وہی میرا مددگار ہے۔‘‘میں نے عرض کیا:’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ نہیں فرمایا تھاکہ ہم عنقریب طواف کعبہ کریں گے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ کیوں نہیں لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال حج کریں گے؟‘‘ میں نے عرض کی:’’نہیں۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: ’’تم ضرورآؤ گے اور کعبے کا طواف کرو