Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
262 - 691
 اصحاب اُن سے بہت محبت کرتے ہیں اور ان کے لیے جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے جب وہ دستِ مبارک دھوتے ہیں تو ان کے اصحاب تبرک کے لئے غسالہ شریف حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں، اگر کبھی تھوکتے ہیں تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جسے وہ حاصل ہو جاتا ہے وہ اپنے چہروں اور بدن پر برکت کے لئے ملتا ہے ، کوئی بال جسمِ اقدس کا گرنے نہیں پاتا اگر کبھی جدا ہوا تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس کو بہت ادب کے ساتھ لے لیتے ہیں اور اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں، جب آپ( صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کلام فرماتے ہیں تو سب ہی ساکت ہوجاتے ہیں۔ آپ( صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے ادب و تعظیم سے کوئی شخص نظر اوپر کو نہیں اٹھا سکتا ۔میں بڑے بڑے بادشا ہانِ فارس و روم و مصر کے درباروں میں گیا ہوں ، میں نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں دیکھی جو محمد مصطفےٰ( صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی ان کے اصحاب میں ہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان سے مقابلہ کرکے کامیاب نہ ہوسکو گے ۔‘‘ قریش نے کہا:’’ ایسی بات مت کہو، ہم اِس سال اُنہیں واپس کردیں گے وہ اگلے سال آئیں۔‘‘ عروہنے کہا کہ’’مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں کوئی مصیبت نہ پہنچ جائے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ طائف واپس چلے گئے اوراِس واقعے کے بعد اللہ تعالٰینے انہیں مشرّف بہ اسلام فرمایا۔(صحیح البخاری،باب کتاب الشروط،الشروط فی الجھاد۔۔۔الخ،  الحدیث: ۳۷۳۱،۳۷۳۲،  ج۲، ص۲۲۵، تفسیر خزائن العرفان، پ ۲۶، الفتح: ۱، ص۹۳۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بیعتِ رضوان
 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسی حدیبیہ کے مقام پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ببول کے ایک درخت کے نیچے بیعت لی ، اس کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں ،جس کا ذکر قرآن مجید میں یوںکیا گیا:(لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ) (پ۲۶، الفتح:۱۸) ترجمۂ کنزالایمان: