وَسَلَّمنے ان سے وہی گفتگو فرمائی جودیگر لوگوں کے ساتھ فرمائی تھی کہ ہمارا اِرادہ جنگ کا نہیں بلکہ ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سن کر انہوں نے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے غیر مناسب گفتگو کی۔ اس وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بالکل قریب ہی موجود تھے اور ان کی ساری گفتگو سن رہے تھے ، ان کے آخری الفاظ سننا تھے کہ غصے کی شدت سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا رنگ تبدیل ہوگیا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی غیرت ایمانی جوش میں آگئی اور عُرْوَہ بن مَسْعُوْد ثقفیکی نہایت ہی سخت الفاظ میں سرزنش کی۔بلکہ ایسے الفاظ میں سرزنش کی کہ ان کا سانس خشک ہوگیا اوروہ کہنے لگے: ’’یہ کون ہے؟‘‘ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ کے رفیق حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ کا والہانہ عشق
عروہ بن مسعود ثقفیپھر نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے گفتگو کرنے لگے ، دوران گفتگو وہ بار بار رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی داڑھی مبارکہ کو ہاتھ لگاتے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ہی حضرت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے تھے ، عروہ بن مسعودثقفینے جب دوبارہ ہاتھ لگایا تو انہوں نے اپنی تلوار کا دستہ ان کے ہاتھ پر مار کر نہایت ہی غصے سے کہا: ’’رسول اللہکی مبارک داڑھی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر۔ ‘‘عروہ بن مسعودنے پوچھا : ’’یہ کون ہے؟‘‘ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس ایمان افروز رویے نے عروہ بن مسعود کے ہوش اڑادیے اور وہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اس حیرت انگیز عشق ومحبت کو دیکھ کر حیران وپریشان ہوکرواپس قریش کے پاس آگئے۔
عروہ بن مسعود ثقفی کے تاثرات
آپ نے قریش کوساری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے