Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
260 - 691
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عمرے کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چار سو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ یکم ذی قعدہ ۶ ھ ہجری کو روانہ ہوگئے ۔مقام ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں دو۲ رکعتیں پڑھ کر عمرہ کا احرام باندھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اکثرصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اِحرام باندھا، البتہ بعض اصحاب نے جحفہسے احرام باندھا ۔
حدیبیہ کیاہے؟
حدیبیہ مکہ مکرمہ سے مغرب کی سمت میں چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے جو مکہ معظمہ سے بارہ میل کی مسافت پر واقع ہے ، یہ جدہ اور مکہ مشرفہ کے درمیان ہے۔ اس جگہ پر ایک کنواں ہے جسے حدیبیہ کہتے تھے، اس وجہ سے اس بستی کا نام بھی حدیبیہ پڑگیا، آج کل اس کنویں کو’’بِیْرِ شُمَیْس‘‘ کہا جاتاہے۔  (سیرت سید الانبیاء، ص۱۶۷)
کفار قریش کے وفود کی آمد
 یہاں کفّارِ قریش کی طرف سے مسلمانوں کا ارادہ معلوم کرنے کے لیے کئی جاسوس بھیجے گئے، اور کئی وفود آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملا قات کرتے رہے، بہرحال جتنے بھی وفود کفار کی طرف سے آئے ان سب نے واپس جا کر یہی بیان کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعمرہ کے لئے تشریف لائے ہیں ، جنگ کا اِرادہ نہیں ہے ۔ لیکن انہیں یقین نہ آیا ، آخر کار انہوں نے عُرْوَہ بن مَسْعُوْدثقفی کو جو طائف کے بڑے سردار اور عرب کے نہایت مُتَمَوِّل(مالدار) شخص تھے تحقیق حال کے لئے بھیجا ۔انہوں نے وہاں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا عشق ومحبت اور ایسی جانثاری دیکھی کہ بعد میں وہ اپنے قبیلے کے کئی لوگوں سمیت مشرف بااسلام ہوگئے۔بہرحال ان کے ساتھ پیش آنے والا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی کا ایک ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے۔ چنانچہ،
صدیق اکبر کی غیرت ایمانی
عُرْوَہ بن مَسْعُوْدثقفی جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ