Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
258 - 691
کے ساتھ وہاں مامور فرمایا کہ اگر دشمن اس طرف سے حملہ آور ہو تو تیر باری کرکے اُس کو دفع کردیا جائے۔ اور حکم دیا کہ کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا اور اس جگہ کو نہ چھوڑنا خواہ فتح ہو یا شکست۔ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جس نے مدینہ طیبہ میں رہ کر جنگ کرنے کی رائے دی تھی جب اس نے دیکھا کہ نبیٔ کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری رائے کے خلاف کیا ہے تو وہ بہت برہم ہوا اور کہنے لگا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نو عمر لڑکوں کا کہنا تو مانا اور میری بات کی پروا نہ کی، اس کے ساتھ تین سو(۳۰۰) منافق تھے ان سے اس نے کہا کہ ’’جب دشمن لشکرِ اسلام کے مقابل آجائے اس وقت تم سب بھاگ جانا تاکہ لشکر اسلام میں انتشار پیدا ہوجائےاور تمہیں دیکھ کر اور لوگ بھی بھاگنا شروع کردیں۔ مسلمانوں کے لشکر کی کل تعداد معہ ان منافقین کے ایک ہزار تھی اور مشرکین تین ہزار ۔بہر حال اُحد کی اس جنگ میں جیسے ہی مقابلۂ عام شروع ہوا تو عبداللہبن اُبیَ منافق اپنے تین سو۳۰۰ منافقوں کو لے کر بھاگ نکلا اور نبیٔ کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سات سو(۷۰۰)صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےساتھ رہ گئے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے غیب سے ان کی مدد فرمائی اوراُن سب کو ثابت قدمی عطا فرمائی یہاں تک کہ مشرکین کو زبردست شکست ہوئی۔اس جنگ میں رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حفاظت کے لیےایک جماعت ساتھ ساتھ رہی جس میں حضرت سیدنا ابوبکر و علی و عباس و طلحہ و سعد رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن تھے۔یہ وہی جنگ ہے جس میں نبیٔ کریم، رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دندانِ اقدس شہید ہوا اور چہرۂ اقدس پر زخم بھی آیا۔  (تفسیرخزائن العرفان،سورۃ ال عمران،آیت نمبر۱۲۱ بتصرف)
سب سے پہلے پلٹنے والے
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں کہ’’ اُحد کے دن جب تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جدا ہوگئے تو سب سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ واپس پلٹے۔‘‘   (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۲۵، ص۷۵)