Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
257 - 691
افرادی قوت میں کئی گنااضافہ ہوگیا۔ان کےپاس جنگی ساز وسامان،گھوڑے، اونٹ، زرہ پوش سپاہیوںکی بڑی تعداد تھی۔چنانچہ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی ’’تفسیرخزائن العرفان‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جنگ بدر میں شکست کھانے سے کفّار کو بڑا رنج تھا، اس لئے اُنہوں نے بقصد انتقام ایک بڑالشکر مرتب کرکے فوج کَشی کی،جب رسول کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خبر ملی کہ لشکرِکفار مقام اُحد میں اُترا ہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے مشورہ فرمایا۔ اس مشورے میں عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو بھی بلایا گیا جو اس سے قبل کبھی کسی مشورے میں نہ بلایا گیا تھا اکثر انصار اورعبداللہ بن ابی بن سلول نے یہ رائے دی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   مدینہ طیبہ میں ہی ٹھہرے رہیں اور جب کفّار یہاں آئیں تب اُن سے مقابلہ کیا جائے یہی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مرضی تھی لیکن بعض اصحاب کی رائے یہ ہوئی کہ مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہیے اور اسی پر انہوں نے اصرار کیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  دولت سرائے اقدس(یعنی اپنے گھر)میں تشریف لے گئے اور اسلحہ (یعنی جنگی لباس وغیرہ)زیب تن فرما کر باہر تشریف لائے۔اب حضور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ کر ان اصحاب کو ندامت ہوئی (جنہوں نے مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر لڑنے کا مشورہ دیا اور اس پر اصرار بھی کیا) انہوں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کو رائے دینا اور اس پر اصرار کرنا ہماری غلطی تھی لہٰذا ہماری اس غلطی کو معاف فرمائیے اور آپ کو جومناسب ہو وہی کیجئے۔‘‘نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’نبی کے لئے سزاوار نہیں کہ ہتھیار پہن کر جنگ سے قبل اُتار دے۔‘‘ مشرکین میدان اُحد میں بدھ، جمعرات کو پہنچے تھے اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جمعہ کے روزبعد نماز جمعہ ایک انصاری کی نماز جنازہ پڑھ کر روانہ ہوئے اور پندرہ شوال۳ھ بروزاتوار(یا ہفتہ)اُحد میں پہنچے،یہاں نزول فرمایا۔اورپہاڑ کا ایک درّہ جو لشکرِ اسلام کے پیچھے تھا اس طرف سے اندیشہ تھا کہ کسی وقت دشمن پشت پرسے آکر حملہ نہ کردے،حضور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا عبداللہبن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پچاس ۵۰تیر اندازوں