Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
256 - 691
کفار کی آئندہ رونما ہونے والی سازشوں پر بھی کڑی نظر رکھنے والے تھے اس لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حکمت سے بھرپور ایسا مدنی مشورہ دیا کہ جو سب کو پسند آیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آپ کی قوم اور قبیلے کے ہی لوگ ہیں،میری رائے میں ان قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں رہا کردیا جائے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس مدنی مشورے میں مسلمانوں کے لیے بہت سے فوائد پوشیدہ تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا خیال تھا کہ (۱)قیدیوں سے فدیہ لیں تاکہ مسلمانوں کی مالی معاونت ہوجائے۔(۲)اگرانہیں قتل کردیا جائے تو ہو سکتا ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوکہ مسلمانوں نے اپنی ذاتی دشمنی کی بنا پر انہیں قتل کیا ، لیکن فدیہ لینے کی صورت میں کفار کے سامنے اسلامی حسن سلوک کا ایک اور پہلو آشکار ہوجائے ۔(۳)فدیہ لے کر رہا کرنے سے کیا معلوم ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہوجائیں اور یہ مسلمان ہو جائیں اور مسلمانوں کی افرادی وفوجی قوت کومزید تقویت ملے۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس مشورے کو پسند کرتے ہوئے قبول فرمایااور کافر قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا فرمادیا اور تمام لوگوں نے دیکھا کہ حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس مدنی مشورے پر عمل کرنے کی برکت سے انہی قیدیوں میں سے کئی لوگ مشرف با اسلام ہوگئے اور مسلمانوں کی افرادی قوت میں بھی مزید اضافہ ہوگیا۔
(تفسیر خزائن العرفان ،پارہ ۱۰،الانفال:۶۷،صحیح مسلم ،باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدرواباحۃ الغنائم،الحدیث:۱۷۶۳، ص ۹۷۰ملخصا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غزوہ اُحد اور صدیق اکبر
غزوہ ٔاُحدمیں والہانہ جذبہ جہاد
کفار کو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں عبرت ناک شکست ہوئی تھی، جس کا انہیں بہت افسوس تھا اور اس ذلت آمیز پسپائی کا بد لہ لینے کے لئے انہوں نے کئی قبیلوں اور بڑے بڑے رئیسوں کو بھی اپنےساتھ ملالیا،اس طرح ان کی