Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
255 - 691
 نہیں بڑھا،صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ننگی تلوار ہاتھ میں لیے آگے تشریف لائے اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس کھڑے ہوگئے اور پھر ہم نے دیکھا کہ کسی کافر کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب بھی پھٹکےاوربالفرض کسی نے ایسی جرأت کامظاہرہ کرنے کی کوشش بھی کی تو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے منہ کی کھائی، اس لیے ہم میں سب سے زیادہ بہادر حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی ہیں۔‘‘ (کنزالعمال،حرف الفاء، باب فضائل الصحابۃ، فصل الصدیق، الحدیث: ۳۵۶۸۵،ج۶، الجزء:۱۲، ص۲۳۵، مفھوما)
بدر کے قیدیوں سےفدیہ لینےکی تجویز
جنگ بدر کے اس عظیم معرکے میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی نورانی مخلوق فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور انہیں فتح ونصرت عطا فرمائی۔ اس جنگ میں تقریباً ۷۰غیرمسلم قیدی بنا کر لائے گئے ۔ ان میں ایسے بھی لوگ تھے جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے رشتہ دار تھے، لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ان قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مشیرِ خاص حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تھے۔ یہ دونوں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جاں نثار اور مخلص ترین رفیق تھے نیز نہایت ہی سوچ سمجھ کر اور انتہائی غوروفکر کے بعد ہی بات کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مشورہ دیتے ہوئے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی، آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مکہ مکرّمہ سے ہجرت کرنے پرمجبور کیا،یہ کُفر کے سردار اور سرپرست ہیں آپ ان کی گردنیں اڑائیں۔ ان سے فدیہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو فدیہ سے غنی فرمادیاہے، آپ صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحضرت علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو عقیل پر اور حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو عباس پر اور مجھے میرے رشتے دار پر مقررکردیجئے تاکہ ہم خود ہی ان کی گردنیں اڑائیں۔‘‘ لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمانوں کی موجودہ حالت سے بھی واقف تھے اور