مولاعلی کے والہانہ جذبات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بارگاہ رسالت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مقام ومرتبےسے باخوبی آگاہ تھےیہی وجہ ہے کہ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمرتدین کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تلوار لے کر گھوڑے پر سوار ہوئے تو حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھوڑے کی لگام تھام لی اور اسی مذکورہ بالاواقعہ کو یاد دلاتے ہوئے عرض کیا :’’ اے خلیفہ رسول اللہ! میں بھی آپ سے وہی کہوں گا جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا تھا ، اپنی تلوار نیام میں کرلیں، ہمیں اپنی جان کے خطرے سے نہ ڈرائیں اور مدینہ کو واپس لوٹ جائیں۔ اگر آپ شہید ہوگئے تو ہمارا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔‘‘یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ واپس لوٹ آئے۔ (البدایۃ والنھایۃ،ج۵،ص۱۹،کنزالعمال ،کتاب الخلافۃ مع الامارۃ ، الباب الاول فی خلافۃ الخلفاء، الحدیث: ۱۴۱۶۲،ج۳، الجزء:۵، ص۲۶۴)
میدان بدرمیں صدیق اکبر کی شجاعت
حضرت سیدنامحمد بن عقیل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیۡلسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک دفعہ استفسار فرمایا: ’’بتاؤ! سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟‘‘لوگوں نے عرض کیا:’’حضور آپ ہی ہیں۔‘‘ فرمایا:’’میں تو اپنے برابر والے سے لڑتاہوں، اس صورت میں، میں صرف بہادر ہوا نہ کہ سب سے زیادہ بہادر۔میں تو سب سے زیادہ بہادر کا پوچھ رہاہوں کہ وہ کون ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’حضور آپ ہی ارشاد فرمائیے۔‘‘ فرمایا: ’’غزوۂ بدرکے روز ہم نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اور نگہداشت کے لیے ایک سائبان بنایا اور آپس میں مشورہ کیا کہ اس سائبان میں نگہبانی کے فرائض کون سرانجام دے گا تا کہ کوئی کافر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرحملہ کرکے تکلیف نہ پہنچاسکے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہم میں سے کوئی بھی آگے