اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے۔‘‘بعدہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مدد فرمائی۔ (سنن الترمذی، تفسیرالقرآن عن رسول اللہ، باب ومن سورۃ الانفال، الحدیث: ۳۰۹۲،ج۵، ص۵۵تا۵۶، صحیح مسلم، کتاب الجھادوالسیر، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدرواباحۃ الغنائم، الحدیث: ۱۷۶۳، ص۹۶۹)
صدیق ا کبر کی غیرت ایمانی جوش میں آگئی
اس وقت جنگوں کا یہ دستورتھا کہ ابتداء میں دونوں لشکر اپنی طاقت کا مظاہر ہ کرنے اور دوسرے لشکر پر اپنی دھاک بٹھا نے کے لیے ماہرشہسواروں کوایک ایک کرکے مقابلے پر بھیجتے تھے ۔کفار کی طرف سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹےعبدالرحمن نے(جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کی طرف سے لڑرہے تھے) مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکاراکہ ’’کون ہے جو مجھ سے مقابلہ کرے گا؟‘‘ اپنے غیرمسلم بیٹے کو دیکھ کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی غیرت ایمانی جوش میں آگئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمقابلے پر جانےکے لیے اٹھ کھڑے ہوئےلیکن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو بیٹھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اجازت عطا فرمائیں۔‘‘تو نبیٔ کریم،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےارشاد فرمایا: ’’مَتِّعْنَا بِنَفْسِکَ یَا اَبَابَکْرٍ!اَمَا تَعْلَمُ اَنَّکَ عِنْدِیْ بِمَنْزِلَۃِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِیعنی اے ابوبکر!ابھی تو ہمیں تمہاری ذات سے بہت سے فائدے اٹھانے ہیں تمہیں معلوم نہیں کہ میرے نزدیک تمہاری حیثیت بمنزلہ کان اور آنکھ کے ہے۔‘‘
(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۸۵، ۱۸۶، المستدرک علی الصحیحین، ھجرۃ عبد الرحمن بن ابی بکر قبل الفتح، الحدیث:۶۰۵۸، ج۴، ص۵۹۸)
سُبْحَانَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول، بی بی آمنہ کے مہکتے پھول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان حق ترجمان سے جو الفاظ مبارکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے نکلے تھے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ویسا ہی ہوا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور خلافت میں شجر اسلام پھلتا اور پھولتا گیا۔