Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
252 - 691
فرمایاکہ مشرکین کی تعداد تو ہزارکے قریب ہے جب کہ مسلمان صرف تین سو انیس ہیں (اور بروایات دیگر تین سو تیرہ تھے) توآپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےحضورگریہ وزاری کر تےہوئے یوں دعا فرمائی: ’’اے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تونے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے پور ا فرما۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔‘‘حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس دعا میں مشغول رہےحتی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چادر کندھے سے ڈھلک کر نیچے گر گئی۔گویا مسلمانوں کی افرادی قوت کمزور ہونے کے سبب تقریبا تمام مسلمان اس وقت بہت آزمائش میں تھے، کیونکہ جنگی سازو سامان بھی نہ ہونے کےبرابر تھا اور مسلمانوں کی اس بے سر وسامانی کو خود قرآن پاک میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پارہ ۴ سورۂ  اٰل عمران، آیت نمبر۱۲۳میں یوں ارشاد فرمایا :(وَ  لَقَدْ  نَصَرَكُمُ  اللّٰهُ  بِبَدْرٍ  وَّ  اَنْتُمْ  اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تَشْكُرُوْنَ(۱۲۳)) ترجمۂ کنزالایمان:’’اور بے شک اللہنے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے تو اللہسے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو ۔‘‘
 اس وقت تمام مسلمانوں میں صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ڈوبتے حوصلوں کو سہارا دیا ، کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جانتے تھے کہ اگر آج مسلمان کمزور پڑ گئے تو دنیا سے اسلام کا نام ونشان ختم ہوجائے گا لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تمام مسلمانوں کی ڈھارس بندھانے اور ان کے کمزور حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے ہمت سے کام لیا اور دعا میں مشغول   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول، بی بی آمنہ کے مہکتےپھول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چادر مبارک اٹھا کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاندھے پر رکھی اور آپ کی پشت اطہر سے لپٹ گئے۔ عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ بہت دعا کرچکے، اب بس فرمائیے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنا وعدہ ضرورپورا فرمائے گا۔‘‘اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: (اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(۹)) (پ۹،الانفال:۹) ترجمۂ کنزالایمان:’’جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو