Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
251 - 691
غزوات میں شرکت 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ انتہائی نر م مزاج تھے،اگران کی اپنی ذات کا معاملہ ہوتا تو عفو و درگزر سے کام لیتے اور کسی کو ذرہ برابر تکلیف نہ پہنچاتے لیکن اگر معاملہ، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، عظمت اسلام یا مسلمانوں کا ہوتاتو آپ کی غیرت جوش میں آجاتی اور قطعاً کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے بلکہ باطل کے سامنے اڑجاتے اور ڈٹ کر اس کا مقابلہ فرماتے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تقریباً تما م غزوات میں خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ شرکت کی سعادت حاصل کی۔جنگی امور میں مہارت ، بہادری ودلیری اوران کی ہمت بے مثال تھی،اسی وجہ سےبارگا ہ رسالت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دفاعی مشیرِ خاص کا درجہ حاصل تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کا جنگی پہلو بھی نہایت شاندار ہے ۔ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کوکھل کر نیکی کی دعوت عام کرنے کاموقع میسر آیا لیکن کفارمکہ کو دعوت حق کی تشہیر کب گوارا تھی لہٰذاحق کا پرچار روکنے کے لئے یہ لوگ کئی منصوبے بنانے لگے حتی کہ ان لوگوں نے اپنے ناپاک عزائم کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئےمدینۂ منورہ کے یہودیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اورانہیں مسلمانوں کی ایذاء رسانی پر ابھار نا شروع کر دیا، تمام باطل قوتوں نے باہمی اتحادسے مسلمانوں کے خلاف جنگ کا بھیانک منصوبہ بنایا۔ حق وباطل کے اس پہلے باضابطہ معرکے میں دیگر صحابہ کے ساتھ ساتھ حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی اہم کردار ادا کیا۔چنانچہ،
غزوۂ بدر اور صدیق اکبر
میدان بدرمیں آپ کابلندحوصلہ 
حضرت سیدنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہےکہ حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا: ’’جنگ بدر کے روز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےجب یہ ملاحظہ