سیدنا عبد اللہ بن زبیر کی سعادتیں
حضرت سیدنا ابن ابی ملیکہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حضرت سیدنا عبد اللہبن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’عبداللہ بن زبیر کے کیا کہنے! یہ تو قاری ٔقرآن ہیں، پاکدامن مسلمان ہیں، ان کے والد تو جنتی صحابی حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں، ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں، ان کے نانا یار غار رسول اللہ، جناب صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں، ان کی خالہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں، ان کی دادی حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں(جو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پھوپھی ہیں)۔ (سیر اعلام النبلاء، عبد اللہ بن الزبیر، ج۴، ص۴۶۲)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر کاوالہانہ عشق رسول
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نواسے حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خون مبارک پینے کی سعادت حاصل ہوئی۔چنانچہ،حضرت سیدنا عامر بن عبد اللہبن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےر وایت ہے کہ میرے والد گرامی حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہواتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپچھنے لگوارہے تھے، جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فارغ ہوئے تو مجھے ارشاد فرمایا: ’’اِذْھَبْ بِھٰذَا الدَّم فَاھْرِقْہُ حَیْثُ لَا یَرَاکَ اَحَدٌیعنی اے عبد اللہ! اس خون کو ایسی جگہ ڈال دو جہاں کسی کی تم پر نظر نہ پڑے۔‘‘فرماتے ہیں:’’جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ فرماکر تشریف لے گئے تو میں نے وہ خون مبارک پی لیا۔‘‘جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس تشریف لائے تو