Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
248 - 691
 مجھ سے استفسار فرمایا: ’’مَا صَنَعْتَ الدَّم؟ یعنی اے عبد اللہ تم نے خون کے ساتھ کیا کیا؟‘‘میں نے عرض کیا: ’’عَمَدتُّ اِلَی اَخْفَی مَوْضَعٍ عَلِمْتُ، فَجَعَلْتُہُ فِیْہِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں ایک خفیہ جگہ کو جانتا تھا جہاں کسی کی بھی نظر نہیں پڑے گی میں نے وہ خون وہاں ڈال دیا ہے۔‘‘سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فورا سمجھ گئے اور ارشاد فرمایا:’’ لَعَلَّکَ شَرِبْتَیقینا ًتم نے اسے پی لیا ہے۔‘‘میں نے عرض کیا: ’’ جی ہاںیارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!‘‘ فرمایا: ’’وَیْلٌ لِّلنَّاسِ مِنْکَ، وَوَیْلٌ لَّکَ مِنَ النَّاسِ لوگوں کو تم سے کچھ پہنچے گا اور تمہیں لوگوں سے کچھ پہنچے گا۔‘‘ (مراد یہ ہے کہ تمہارے ساتھ بھی وہی معاملات ہوں گے جو میرے ساتھ ہوئے ، لوگ تم سے اعراض کریں گے ، جھٹلائیں گے، سب وشتم کریں گےاور مختلف قسم کی تکلیفیں دیں گے اور تم بھی لوگوں کے لیے بہت بہادر اور طاقت ور ثابت ہوگے، اور پھر واقعی رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مراد کے مطابق ہوا)شارحین فرماتے ہیں کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک خون نوش کرنے کے سبب سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت زیادہ قوت والے ہوگئے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء، عبد اللہ بن زبیر،  ج۴، ص۴۶۱)
سیدتنا عائشہ صدیقہ کی رخصتی
رسولِ اکرم، نورِ مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مکۂ مکرمہ میں ہجرت سے تین سال قبل، اِعلان نبوت کے دسویں سال اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے نکاح فرمایااس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی عمر چھ برس تھی۔ہجرت کے سات ماہ بعد شوال المکرم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاں رخصتی ہوئی اس وقت آپ کی عمر نو سال تھی اور نو سال ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معیت حاصل رہی۔یوں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ 
(سیرت سیدالانبیاء، ص۲۵۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد