زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ولادت ہوئی۔نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم دیا کہ اپنے نواسے کے کان میں اذان دیں۔
مسلمانوں کا اظہار فرحت ومسرت
ان کی ولادت پر مسلمانوں نے شدید فرحت ومسرت کا اظہار کیا، کیونکہ انہیں یہودیوں کی جانب سے یہ خبر مل چکی تھی کہ انہوں نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھیوں پر جادو کردیا ہے جس کے اثر سے ہجرت کے بعد ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوسکے گا۔ اس واقعہ سے پہلے انصار میں حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ متولد ہوئے تھےتو مسلمانوں نے ان کی ولادت پر بھی خوشی منائی تھی، اس پر یہودی کہنے لگے ہم نے مہاجرین پر جادو کیا ہے انصار پر جادو نہیں کیا۔اس کے بعد جب مہاجرین میں حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ولادت ہوئی تو مسلمانوں کوبہت خوشی ہوئی۔
واہ کیا بات ہے سیدنا عبد اللہ بن زبیر کی!
حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ولادت کے بعد آپ کی والدہ حضرت سیدتنا اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاانہیں بارگاہ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں اور رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گود میں ڈال دیا۔ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے منہ میں لعاب دہن ڈالا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیٹ میں جوچیز سب سے پہلے گئی وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لعاب دہن تھا۔ اس کے بعد نبیٔ اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کھجور لے کر اسے چبایا اور پھر ان کے منہ میں ڈال کر دعائے برکت فرمائی۔ (سیر اعلام النبلاء، عبد اللہ بن زبیر، ج۴، ص۴۶۱، سیر ت سید الانبیاء، ص۲۴۹)