Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
244 - 691
مدینے میں سیدنا صدیق اکبر کا قیام
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مدینہ منورہ کے قرب وجوار میں سُنْح نامی ایک علاقے میں حضرت سیدنا خارجہ بن زید بن ابی زہیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس قیام فرمایا اور یہیں تجارت بھی شروع فرمادی۔ چند دنوں بعد آپ کے اہل خانہ بھی ، مدینہ منورہ پہنچ کریہیں قیام پذیر ہوگئے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکر الغار والھجرۃ الی المدینۃ، ج۳، ص۱۳۰)
صدیق اکبر کو مدینے میں بخار ہوگیا
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں کہ مدینہ منورہ میں قیام کے کچھ ہی دنوں کے بعد میرے والد ماجد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شدید بخار میں مبتلا ہو گئے۔ جب میں عیادت کے لیے ان کے پاس آئی میرے والد ماجد سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ شعر پڑھ رہے تھے:
كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ
وَالْمَوْتُ أَدْنٰى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهٖ
’’یعنی ہرشخص اپنے اہل وعیال میں صبح کرتاہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں: ’’میں گھبرا کردو عالم کے مالِک و مختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور اپنے والد ماجد کا حال بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارگاہ رب العزت میں یوں دعا فرمائی:’’اللّٰهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَحِّحْهَا لَنَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو مدینہ طیبہ کو بھی ہمارے نزدیک ایسا ہی محبوب بنادے جیسا کہ مکۂ مکرمہ تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ، یہاں کی آب وہوا کو صحت بخش کردے۔ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہاں کے ناپ تول میں بھی برکت عطا فرمااور بخار کو یہاں سے جحفہ کی طرف منتقل فرما۔‘‘ ان ہی ایام میں خود حضرت سیدتنا عائشہ