Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
242 - 691
 چھتوں پر چڑھ گئیں۔
نعرۂ رسالت:یارسول اللہ !
حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں:’’جب سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ تشریف لائے تومرد، عورتیں آپ کی زیارت کے لیے چھتوں پرچڑھ گئے، چھوٹے بچے اور غلام راستوں میں پھیل گئے اوریہ سب لوگ نعرۂ رسالت یعنی  یَا مُحَمَّدُ! یَا رَسُوْلَ اللہْ!کی صدائیں لگارہے تھے۔‘‘
  (صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق، باب فی حدیث الھجرۃ،الحدیث:۳۰۱۴،ص۱۶۰۸) 
مسلمانوں کے بچے بچیاں مسرور تھے سارے
گلی کوچے خدا کی حمد سے مخمور تھے سارے
نبوت کی سواری جس طرف سے ہو کے جاتی تھی
درود و نعت کے نغمات کی آواز آتی تھی
مدینہ میں اوَّلاًقیام کی سعادت
تمام قبائل انصار جو راستہ میں تھے انتہائی جوشِ مسرت کے ساتھ اونٹنی کی مہار تھام کر عرض کرتے: یا رسول ﷲصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ ہمارے گھروں کو شرفِ نزول بخشیں مگر آپ ان سب محبین سے یہی فرماتے کہ میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو جس جگہ خدا کو منظور ہو گا اسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔
ہر اک مشتاق تھا پیارے نبی کی مہمانی کا
تمنا تھی شرف بخشیں مجھی کو میزبانی کا