Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
241 - 691
 (پ۱۱،التوبۃ:۱۰۸)ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں۔‘‘
ایک نماز کا ثواب ایک عمر ہ کے برابر
(1)حضرتِ سیدنا سہل بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےكہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اپنے گھر سے وضو کرکے مسجد قبا ء میں آئے پھر اس مسجد میں نَماز پڑھے اسے ایک عمرے کا ثواب دیا جائے گا ۔‘‘					    (مسند امام احمد،مسند المکیین، الحدیث:۱۵۹۸۱، ج۵، ص۴۱۱)
(2)حضرتِ سیدنا اُسید بن ظُہیر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍیعنی مسجد قباء میں ایک نمازادا کرنا ایک عمرہ کے برابر ہے۔‘‘			   (سنن ابن ماجۃ ، کتا ب اقامۃ الصلوۃ ، باب ماجاء فی الصلوۃ فی مسجد قباء ،الحدیث: ۱۴۱۱ ، ج ۲، ص ۱۷۵)
مسجد الجمعہ میں نماز جمعہ
مسجد قباء کی تعمیر فرما کر جمعہ کے دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قباءسے شہر مدینہ داخل ہوئے، راستہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلۂ بنی سالم کی مسجد میں پہلا جمعہ ادا فرمایا۔ یہی وہ مسجد ہے جو آج تک ’’مسجد الجمعہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اہل شہر کو خبر ہوئی تو ہر طرف سے لوگ جذبات شوق میں مشتاقانہ استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دادا عبدالمطلب کے ننہالی رشتہ دار’’بَنُو نجار‘‘ ہتھیار لگائے قباء سے شہر تک صفیں باندھے مستانہ وار چل رہے تھے۔ آپ راستے میں تمام قبائل کی محبت کاشکریہ ادا کرتے اور سب کو خیروبرکت کی دعائیں دیتے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔شہر قریب آگیا تو اہل مدینہ کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ پردہ نشین خواتین مکانوں کی