مقام قباء میں قیام اور مسجد کی تعمیر
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ منورہ میں نزولِ اِجلال سے قبل مقام ’’قباء‘‘ میں دس سے کچھ زائد راتیں قیام فرمایا۔ قباء میں اپنے قیام کے دنوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسجد قباء کی تعمیر فرمائی۔ اس مسجد کی تعمیر میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ہمراہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنفس نفیس شرکت فرمائی۔اسی مشغولیت کی بنا پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قباء میں دس سے کچھ زائد شب قیام فرمایا۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۷)
اسلام کی سب سے پہلی مسجد
مسجد قباء اسلام میں تعمیر ہونے والی پہلی ایسی مسجد ہے جس میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علی الاعلان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سمیت نماز ادا فرمائی۔ نیز یہ پہلی مسجد ہے جو عام مسلمانوں کے لیے تعمیر کی گئی۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی اسلام میں کئی مساجد بنائی گئیں تھیں، لیکن وہ عام مسلمانوں کے لیے وقف نہ تھیں، جیسے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مسجد جو آپ نے مکہ مکرمہ میں اپنے گھر کے صحن میں تیار کی تھی۔
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، خاتمۃ فی وقائع۔۔۔الخ، ج۲، ص۱۵۵)
مسجد قبا ء کے فضائل
مسجد قباء کے بارے میں آیت مبارکہ
مسجد قباء کی شان اللہ تَعَالٰینے قرآن پاک میں خود بیان فرمائی چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸))