Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
239 - 691
ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو پہچاننے میں لوگوں کے اشتباہ کا ایک سبب تو یہی تھا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعمر میں اگرچہ چھوٹے تھے لیکن آپ پر سن رسیدہ ہونے کے آثار نمایاں تھے، اس لیے لوگ پہچان نہ کرسکے۔ دوسرا لطیف سبب یہ تھا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات مبارکہ وہ ذات ہے جس پر ہر لمحہ رب عَزَّ وَجَلَّ کے انوارو تجلیات کی بارش ہوتی ہی رہتی ہےاورمکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت کے اس طویل سفرمیں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ساتھ تنہا رہے ،خصوصا ًغار ثور کی تنہائیوں میں نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہونے والی انوار وتجلیات کی برسات میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی خوب نہاتے رہے اور بحر نور میں غوطہ زنی فرماتے رہے ان ہی انواروتجلیات کی چمک حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس مقدس وجود میں جھلک رہی تھی اور نور نبوت کی ضیاء پاشیوں سے چہرہ صدیق اکبرجگمگ جگمگ کررہاتھا۔نیز رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِعلان اسلام سے لے کر ہجرت تک صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شخصیت ایسی تھی جس نے ہر ہر قدم پر اپنے محبوب کا ساتھ دیا ، سب سے پہلے اسلام لائے، سب سے پہلے تصدیق کی، مشکل وقت میں حوصلہ دیا، مشرکین سے آپ کا دفاع کیا، آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا، اپنا تن ، من ، دھن ، آل ، اولاد سب کچھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات بابرکت پر قربان کردیا ، گویا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی ذات کو ذات مصطفےٰ میں فنا کردیا تھا،اسی وجہ سے مدینہ پہنچنے پر لوگوں کو بظاہر دو وجود نظر آرہے تھے لیکن ظاہری وباطنی صورت وسیرت میں وہ ایک ہی وجود تھا یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں لوگ امتیاز ہی نہ کرسکے۔
فنا اتنا تو ہو جاؤں میں تیری ذات عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اس کو ترا دیدار ہو جائے