Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
238 - 691
 پہلے زیارت نہیں کی تھی،لیکن شوق محبت میں لوگ امڈتے چلے آرہے تھے اور کسی کویہ معلوم نہ تھا درخت کے نیچے بیٹھی دونوں ہستیوں میں سےخادم کون ہے اور آقا کون؟یہاں تک کہ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اوپرسے سایہ ختم ہواتواسی وقت حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاٹھے اور اپنی چادر سے آپ کو سایہ کرنے لگے، تب ہمیں صحیح پتا چلاکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکون سے ہیں اورجناب رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شخصیت کون سی ہے۔ 
 (الریاض النضرہ،ج۱،ص۱۲۰)
محب اور محبوب کی پہچان
حضرت سیدناعروہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مدینۂ منورہ تشریف لائے تومسلمانوں نے سرزمین مدینہ سے دور بدر کے نزدیک صحرا کے کنارے آپ کا استقبال کیا، آپ انہیں لے کر دائیں راستے پر چلے اور ربیع الاول میں بروز پیر بنو عمرو بن عوف کے ہاں جا کے قیام فرمایا نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تشریف لا ئے اور خاموشی سےبیٹھ گئے، سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے رہے، کئی انصاری جنہوں نے قبل ازیں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو نہ دیکھا تھا، سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ہی مرجع و ماویٰ سمجھتے تھے ،جب سورج سر پر آگیا تو سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اٹھے اور اپنی چادر سے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سایہ کرکے کھڑے ہوگئے اس وقت لوگوں نے نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو صحیح طرح پہنچانا۔ (صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۶،ج۲ ، ص ۵۹۴،  الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۲۲)
محب اور محبوب کو نہ پہچاننے کی وجہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیدنا