Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
237 - 691
ہجرت کرکے مدینۂ منورہ پہنچ رہے ہیں توہم آپ کی آمدکی امیدپرروزانہ نماز فجرکے بعد شہرمدینہ سے باہرمقامِ حرۃ میںآکر آپ کے انتظار میں بیٹھ جاتے ، خدا کی قسم!جب دھوپ سے بچنے اور سرچھپانے کو کوئی جگہ نہ رہتی تو ہم گھروںمیں آجاتے،اُن دِنوں گرمی بھی زوروں پر تھی۔
نکل کر شہر سے خلقت قبا تک چل کے آئی تھی
تمنا رنگ حسرت بن کے آنکھوں میں سمائی تھی
ہوا کرتی تھیں فرش راہ اٹھ کر بار بار آنکھیں
ہمہ تن انتظار آنکھیں، ہمہ تن انتظار آنکھیں
 	جس دن سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہنچنا تھا،ہم حسب معمول کڑکتی دوپہر تک انتظار میں بیٹھے رہے،اوراس کے بعدجب ہم گھروںمیں چلے گئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے سب سے پہلے آپ کو ایک یہودی نے دیکھا جو ہمیں روزانہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے انتظار میں بیٹھے دیکھا کرتا تھا، وہ بلند آواز سے پکارنے لگا: ’’اے بنو قیلہ(اوس وخزرج)! تمہارا مقصد آ پہنچا۔‘‘
اٹھا غل لیجئے ذروں کے گھر میں آفتاب آیا
زمین وآسماں کا نور جس کے ہم رکاب آیا
اکھٹے ہوگئے ہر سمت سے طالب زیارت کے
شعاعوں کی طرح سے گرد خورشید رسالت کے
حضرت سیدناعبدالرحمن بن عویمربن ساعدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے استقبال کے لیے دوڑے آئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے، ہم میں سےاکثرلوگوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی