سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے سفید جوڑے نذر وہدیہ کیے اور اپنی قوم کی سرزمین کی طرف لوٹ گئے ۔غزوہ احد کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمدینہ منورہ آگئے اور وہیں سکونت اختیار کرلی۔ (مدارج النبوۃ، ج۱، ص۶۲، سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۶)
مدینہ منورہ میں آمد
رسول اللہ کا مدنی جلوس
دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب غار ثور سے تشریف لائے تھے تو اس وقت آپ کے ساتھ صرف تین افراد تھے ، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،آپ کے غلام حضرت سیدنا عامر بن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور راستے کی راہنمائی کرنے والا عبد اللہ بن اریقط لیثی۔لیکن حضرت سیدنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور ان کے قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تو اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مسلمانوں کا ایک جم غفیر تھاجو مدنی جلوس کی شکل اختیار کرگیا۔حضرت سیدنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس جلوس کی مدنی قیادت کے لیے بارگاہ رسالت میں یوں عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مدینہ منورہ میں داخل ہوتے وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ایک جھنڈا ہونا چاہیے۔‘‘ نیز انہوں نے اپنا عمامہ شریف سر سے اتارا، اپنے نیزے پر باندھ کر اسے جھنڈا بناد یااور اس جھنڈے کو لہراتے ہوئے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگے آگے چلنے لگے۔ اور یوں یہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا شاہانہ مدنی جلوس مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔
(مدارج النبوۃ، ج۱، ص۶۲)
آمدِ مصطفے ۔۔۔مرحبا۔۔۔مرحبا
حضرت سیدناعبدالرحمن بن عویمربن ساعدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: میری قوم کے کئی لوگوں نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے یہی ر وایت کیاہے کہ ’’جب ہم نے سنا کہ نبی مکرم ،نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکۂ مکرمہ سے