منورہ کے قرب ونواح میں پہنچے تو حضرت سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آپ سے ملاقات ہوگئی ،ان کے ساتھ ان کی قوم کے تقریبا ۷۰ یا ۸۰ افراد بھی تھے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی تلاش میں نکلے تھے، کیونکہ ابوجہل اور دیگر کفار مکہ نے اعلان عام کے ساتھ ساتھ انہیں بھی مَعَاذَ اللّٰہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شہید کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا اور سو اونٹوں کے انعام کا بھی وعدہ کیا تھا۔
آپ کا قبول اسلام
نبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سامنا ہوا تو انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رخ انور پر نور نبوت نظر آیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے استفسار فرمایا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی:’’بُرَیْدَۃ۔‘‘ نبیٔ اکرم، نور مجسم ،شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حروف سے اچھا معنی مراد لینے والی اپنی عادت کریمہ کے مطابق ’’بُرَیْدَۃ‘‘کی اصل’’بَرُوْدَۃ‘‘ یعنی ٹھنڈک سے سلامتی وسکون مراد لیا۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’قَدْ بَرَدَ اَمْرُنَا وَصَلَحَ یعنی ہمار ا معاملہ ٹھنڈا ہو گیا جس کا انجام صلح ہے۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر پوچھا: ’’ کون سے قبیلے سے ہو؟‘‘ عرض کیا: ’’قبیلہ بنی اسلم سے۔‘‘ فرمایا: ’’سَلِمْنَا یعنی ہمارے لیے سلامتی ہے۔‘‘پھر پوچھا:’’ بنی اسلم کی کون سی شاخ سے ہو؟‘‘ عرض کیا: ’’بنی سہم سے۔‘‘ فرمایا: ’’اَصَبْتَ سَھْمَکَ یعنی تونے اپنا حصہ پالیا۔‘‘ مراد یہ تھی کہ تونے اسلام سے اپنا حصہ پالیا۔ اس کے بعد سیدنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ سے پوچھا: ’’آپ کون ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’میں محمد بن عبد اللہ ، اللہکا رسول ہوں۔‘‘ آپ کی گفتگو سے سیدنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت متاثر ہوئے ۔ آپ اور آپ کی قوم کے جتنے افراد آپ کے ہمراہ تھے تمام مشرف با اسلام ہوگئے۔اس کے بعد حضرت سیدنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ باقی سفر ہجرت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ہی رہے ۔ جب نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہوگئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت