Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
234 - 691
وَسَلَّمنے فتح مکہ اور غزوہ طائف و حنین سے فارغ ہو کر مقام جِعِرَّانَہمیں پڑاؤ کیا تو سراقہ بن مالک بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو ئے اور اپنے قبیلہ کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔  (مدارج النبوت  ، با ب چھارم، ج۲،ص۶۲وشرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ،قصۃ سراقۃ، ج۲، ص۱۴۵ملخصاً)
کسریٰ کے سونے کے کنگن
یہ وہی حضرت سیدنا سراقہ بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں جن کے بارے میں دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے علم غیب سے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ’’ اے سراقہ!تیرا کیا حال ہو گا جب تجھے ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے دوکنگن پہنائے جائیں گے؟‘‘ اس ارشاد کے برسوں بعد جب حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور خلافت میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن دربار خلافت میں لائے گئے تو امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تاجدار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےفرمان کی تصدیق کے لئے وہ کنگن حضرت سیدنا سراقہ بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پہنا دیئے اور فرمایا کہ’’قُلْ اَللہُ اَکْبَر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ سَلَبَھُمَا كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَاَلْبَسَھُمَا سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکٍ اَعْرَابِیًّا مِنْ بَنِیْ مُدْلِجْیعنی اے سراقہ!یہ کہو کہ اللہ بہت بڑا ہے،ﷲ تعالی ہی کے لئے حمد ہے جس نے بنومدلج کےان کنگنوں کو بادشاہ فارس کسریٰ سے چھین کر سراقہ بدوی کو پہنا دیے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےحضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دور میں ۲۴سن ہجری میں وفات پائی۔  (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ،  قصۃ سراقۃ، ج۲،ص۱۴۵)
دامن مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سیدنا بریدہ اسلمی سے ملاقات
نبیٔ پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموسیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب مدینہ