ہمیں اس سے بچا۔‘‘ تو فورا اس کے گھوڑے کی اگلی دونوں ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں ۔ایک روایت میں یہ ہے کہ گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ لاکھ کوشش کے باوجود جب چھٹکارہ نہ پا سکا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ بے کس پناہ میں عرض کی :’’مجھے معاف کر دیجئے اور میرے لیے دعا کیجئے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا بلکہ آپ کی تلاش میں جو دیگر لوگ میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں ان سے بھی اس بات کو مخفی رکھوں گا ۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ جب نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سراقہ کے لیے بددعا فرمائی تو فوراً اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیاکہنے لگا:’’اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )میں خوب جانتا ہوں یہ آپ کی دعا کا اثر ہے۔ آپ اللہسے مجھے نجات دلوادیں،خدا کی قسم! میں آپ کی تلاش میں آنے والے کفار کو اندھا کردوں گا، ان کا راستہ بدل دوں گا، یہ میرے تیروں کا ترکش بھی لے لیں اور عنقریب آپ فلاں مقام سے گزریں گے وہاں میری بکریاں اور اونٹ ہیں،آپ وہاں سے جتنے چاہیں لے لیں۔‘‘ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تیرے اونٹوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے حق میں دعا فرمائی تواس کا گھوڑا زمین کی پکڑ سے آزاد ہوگیا۔ (صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۶۵۲۔ ۳۹۰۸، ج۲ ، ص۵۱۶ ۔۵۹۵، سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۶)
سراقہ بن مالک کاقبول اسلام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب کفار قریش نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پکڑ نے کے لیے بطور انعام سو اونٹوں کا اعلان کیا تو کئی جوان اس کے حصول کے لیے نکل پڑے لیکن ان میں صرف سراقہ بن مالک ہی ایسے تھے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک پہنچ پائےاور اپنی آنکھوں سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا معجزہ بھی دیکھا۔ سراقہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوئے مگر حضور نبیٔ، کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت نبوت اور اسلام کی صداقت کا سکہ ان کے دل میں بیٹھ گیا۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ