اور حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتشریف لے گئے تو قریش کاایک گروہ جس میں ابوجہل بھی تھا، ہمارے پاس آئے اور دروازے پر کھڑے ہوگئے، میں جب باہر نکلی تو وہ کہنے لگے: ’’تمہارا باپ ابوبکر کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’مجھے ان کا علم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔‘‘ ابوجہل نے جو نہایت بے حیاء اور خبیث انسان تھا میرے منہ پر ایسا زور دار طمانچہ رسید کیا جس سے میرے کان کی بالیاں ٹوٹ کر نیچے جا گریں۔پھر وہ چلے گئے اور ہمیں تین دن تک کوئی علم نہ تھا کہ ہمارے والد اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جنّ مکے کے نشیبی علاقےسے عربی لہجہ میں کچھ اشعارگنگناتاہوا نظرآیا،جن کا ترجمہ یہ ہے: (۱) انسانوں کا پروردگار خدا تعالیٰ ان دونوںساتھیوں کو بہتر جزا عطا فرمائے جو اُمّ مَعْبَد کے دو خیموں میں اترے ہیں۔( ۲) وہ نیکی لے کر وہاں اترے اور پھر چل دیئے تو جو شخص مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہم سفر بنا ہے وہ بڑا ہی کامیاب ہے۔(۳) اُمّ مَعْبَدکے خاندان بنو کعب کو ان کی اس عورت اُمّ مَعْبَد کا مکان مبارک ہوجومومنوں کے لیے جائے پناہ ہے۔ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۰۳)
پیچھا کرنے والے کا انجام
حضرت سیدنا براءبن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ جب سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (حضرت سیدتنا اُمِّ مَعْبَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر سے )مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پیچھا کیا۔ ابوجہل اور دیگر کفار قریش نے اُس سے ایک سو اونٹوں کی شرط لگار رکھی تھی کہ اگر وہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ )شہید کردے یا ان میں سے کسی ایک کو قیدی بناکر ہمارے پاس لے آئے تو ہم اسے سو اونٹ بطور انعام دیں گے۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب پہنچ گیا، جب دو یا تین نیزوں کا فاصلہ باقی رہ گیا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ دشمن ہم تک آ پہنچا ہے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس کے لئے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! جس چیز کے ذریعے سے تو چاہتا ہے