آنکھ کو بھائے جونہ تو حدسے زیادہ اور نہ ہی کم ، مختلف قد کے تین آدمی کھڑے ہوں تو جس کا قد دل کو بھائے وہی آپ کا سراپا ہے۔‘‘ آپ کا حلیہ بیان کرنے کے بعدسیدتنا اُم مَعْبَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابولیں:’’ ان کے ساتھ خدمت گزار ساتھی بھی تھے، اگر وہ کوئی بات کہتے تو ان کے ساتھی چپ ہوجاتے، اور کوئی حکم کرتے تو اسے پورا کر دکھانے کے لیے سرعت کا مظاہرہ کرتے، آنے والے بزرگ بڑے نرم خو، مخدوم اور غرور و تکبر سے ناآشنا تھے۔‘‘یہ سن کر اَبُو مَعْبَد بولے:’’ خدا کی قسم!یہی وہ قریشی جو ان ہیں جن کی مکہ شہر میں دھوم پڑی ہے، میں نے عزم مصمم کرلیاہے کہ اگرقسمت نے ساتھ دیا تو ضرور ان کی غلامی اختیار کروں گا۔‘‘بعد میں آپ مسلمان ہو گئے تھے۔بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں ہی گھر تشریف لائے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ حضرت سیدتنا اُمِّ مَعْبَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا اور آپ دونوں اسی وقت مسلمان ہوگئے تھے۔ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۱۷،شرح السنۃ ،کتاب الفضائل ، باب جامع صفاتہ، الحدیث: ۳۵۹۸، ج۷، ص۴۹، سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۵)
سیدتنا اُمِّ مَعْبَد کی مبارک بکری
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں عَامُ الرَّمَادَۃتک وہ بکری اسی طرح صبح وشام کثرت سے دودھ دیتی رہی، عَامُ الرَّمَادَۃ۸۱سن ہجری کوکہتے ہیں۔اس سال کو عَامُ الرَّمَادَۃکہنے کی وجہ یہ ہےکہ اس سال ایسا شدید قحط پڑ گیاکہ جنگلوں اور بیابانوں سے خوراک ختم ہوگئی، وحشی جانور آبادیوں کارخ کرنے لگے، جانوروں کا گوشت کھانے کے قابل نہ رہا یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی بکری ذبح کرتا تو گوشت کے خراب ہونے کے باعث اس سے نفرت کرنے لگتا، ایسی ہوا چلتی کہ راکھ کی رنگت کا غبار چیزوں پر پڑ جاتا۔ رَمَاد عربی میں راکھ کو کہتے ہیں اس لیے اسے عَامُ الرَّمَادَۃ یعنی راکھ والا سال کہتے ہیں۔
(سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۵، السیرۃ الحلبیۃ،باب الھجرۃ الی المدینۃ، ج۲، ص۶۶)
جنّ کے محبت بھرے اشعار
حضرت سیدتنا اسماء بنت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ جب نبی ٔاکرم ،نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم