Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
230 - 691
کے پاس یہ چیزیں نہ تھیں، جب کہ ان حضرات کے پاس جو کچھ زاد راہ تھا وہ بھی ختم ہونے کو تھا۔ اچانک سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظر مبارکہ خیمے کے ایک کونے میں بندھی بکری پرپڑی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اُمّ مَعْبَد! یہ بکری کیسی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یہ دیگر بکریوں کے ساتھ چرنے کو نہیں جاسکتی۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’دودھ دیتی ہے؟‘‘کہنے لگیں: ’’دودھ دینے کی عمر سے گزر چکی ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’کیا تم اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوھ لوں؟‘‘عرض کیا: ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیوں نہیں؟ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ دودھ دے دے گی توشوق سے دوھ لیں۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بکری کو پکڑ کر اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیااور دعا کی تو تھن دودھ سے اتنے بھر گئے کہ ان سے خود بخوددودھ ٹپکنا شروع ہوگیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے برتن منگوا کر اسے دوھنا شروع کیا تودیکھتے ہی دیکھتے وہ برتن منہ تک بھر گیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیدتنا اُمّ مَعْبَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو پلایا پھر اپنے ساتھیوں کو دیاسب کے سب سیر ہوگئے، آخر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود بھی نوش فرمایا۔ دوبارہ دوھا تو برتن پھر بھر گیا،یوں سیدتنا اُمّ مَعْبَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے برتن دودھ سے چھلکنے لگے۔ بہر حال آپ صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دودھ وہیں چھوڑا اور دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ شام کو سیدتنا اُمّ مَعْبَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے شوہر اَبُو مَعْبَد بکریاں چرا کر واپس آئے اور خشک وناتواں بکریاں ان کے آگے آگے تھیں، گھر کے برتن میں دودھ دیکھ کر انہیں بڑا تعجب ہوااور کہنے لگے: ’’ اُمّ مَعْبَدیہ کیا ہے؟ گھر میں ایک بکری ہے، وہ بھی خشک اور دوھنے والا بھی کوئی نہیں، یہ اتنا سارا دودھ کہاں سے آیا؟‘‘سیدتنا اُمّ مَعْبَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابولیں: ’’بات دراصل یہ ہے کہ آج ہمارے یہاں ایک مبارک شخصیت تشریف لائی تھیں اوریہ سب انہیں کی برکتیں ہیں۔‘‘سیدنا اَبُو مَعْبَدنے کہا: ’’وہ کون تھے؟مجھے ان کا حلیہ بتائو۔‘‘ وہ کہنے لگیں: ’’خندہ پیشانی ، نورانی چہرہ، خوش اخلاق، نہ پیٹ بڑا ، نہ سر چھوٹا، حسن و جمال کا پیکر ، سیاہ اور لمبی آنکھیں، آواز میں رعب ، لمبی گردن، گھنی داڑھی، ابرو باریک اور باہم ملے ہوئے،چپ رہیں تو پروقار لگیں، بولیں تو ہلتے ہونٹ دل موہ لیں، دور سے دیکھو تو حسن کا پیکر، قریب سے دیکھو تو مجسمہ جمال، گفتگو واضح اورسادہ و میٹھی، نہ ضرورت سے زیادہ بولیں نہ کم اور جب لب کشائی فرمائیں تو ایسا کلام جیسے لڑی میں موتی پرودیے گئے ہوں، درمیانہ قد