’’اللہ تمہیں رضوان اکبردے گا۔‘‘ (الریاض النضرۃ ،ج۱،ص۱۶۵)
صدیق اکبر کاحکمت بھرا جواب
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت فرمائی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہدیکھنے میں پکی عمر کے لگتےاور لوگوں میں معروف بھی تھے، جب کہ نبیٔ پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی نسبت جوان اورلوگوں میں معروف نہ تھے، توراستے میں ملنے والا کوئی بھی شخص جب حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے متعلق پوچھتاکہ یہ کون ہیں؟ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحکمت بھرا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے :’’ھٰذَاالرَّجُلُ یَھْدِیْنِی السَّبِیْلَ یعنی یہ میرے راہنما ہیں راستے کے معاملے میں میری راہنمائی کر تے ہیں۔‘‘ تو لوگ یہ سمجھتے کہ شاید انہوں نے سفرکے لیے کوئی راہبر لے لیاہے۔حالانکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کامقصد یہ تھا کہ’’یہ بھلائی کار استہ بتانے والے ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۱۱، ج۲، ص۵۹۶)
سیدتنا اُمّ مَعْبَدکے گھرمعجزے کاظہور
حضرت سیدناہشام بن حبیش بن خالد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور ان کے غلام حضرت سیدنا عامر بن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور راہبر عبد اللہ بن اریقط لیثی یہ چاروں مکہ مکرمہ سے بقصد ہجرت مدینہ منورہ کو روانہ ہوئے،(غار ثور میں تین دن قیام کے بعد وہاں سے چلے)اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ کے درمیان ایک بستی قُدَیْدمیں سیدتنا اُمّ مَعْبَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا خزاعیہ کے دو خیموں پر گز رہوا،جن کا پورا نام اُمِّ مَعْبَد عاتِکہ بنت خالد خُزَاعِیَّۃ تھا۔آپ ایک ضعیف خاتون تھیں، اپنے خیمے میں بیٹھی رہتیں اور مسافروں کو کھانا ، پانی وغیرہ دے دیا کرتیں تھیں۔ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے ساتھیوں نے ان سے کھجور یا گوشت کا پوچھا کہ اگر ان کے پاس ہے تو خرید لیں۔ مگر ان