راہبر کی خدمت گزاری
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبیلہ بنی وائل کے ایک آدمی کو جو قبیلہ بنی عبد بن عدی سے تعلق رکھتا تھا اپنے ساتھ مزدور رکھ لیا ،وہ راستوں کا بڑا شناسا ،بہترین راہبر اور عاص بن وائل کا حلیف اور قریش کے دین پر تھا۔ آپ لوگوں نے اسے دونوں اونٹنیاں بطورِ امانت دے دیں، اوراس سے تین دن کے بعدوقت صبح غار کے باہر دونوں سواریاں لانے کا وعدہ لے لیا۔ چنانچہ وہ تین دن بعد حسبِ وعدہ وہاں آگیا اور سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا عامر بن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت تینوں کو لے کر ساحل سمندر کے راستے مدینہ چلاگیا۔
(صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ھجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث: ۳۹۰۵، ج۲ ، ص۵۹۳)
غار ثورسے مدینہ کو روانگی
غارثور سے روانگی کب ہوئی؟
حُسن اخلاق کے پیکر، محبوب ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یکم ربیع الاول جمعرات کی رات کو مکہ مکرمہ سے نکل کر غار ثور میں مقیم ہوئے، تین راتیں یعنی جمعہ ہفتہ اور اتوار کی راتیں غار میں قیام فرمایا، پھر وہاں سے پیر کی رات ۵ربیع الاول ( ۶۲۲ ء)کو عازم مدینہ ہوئے اور ۱۲ ربیع الاول، پیر کے روز چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں نزول فرمایا۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۲۳۱)
صدیق اکبر کے لیے رضوان اکبر کی دعا
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غار سے باہر تشریف لائےتو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے رکاب تھام لی اور اونٹنی کی لگام بھی ہاتھ میں لے لی تونبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: