Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
227 - 691
محفوظ رہے۔‘‘ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے قصہ ہجرت سنانا شروع کیااور فرمایا: ہم مکہ سے نکل کر رات بھر چلتے رہے،جب ظہر ہوگئی اور گرمی اپنی آخری حد کو پہنچ گئی میں نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی کہ کہیں سایہ نظر آئے اور پناہ لی جاسکے، اچانک مجھے ایک بڑی چٹان دکھائی دی، میں نے اس تک پہنچ کر دیکھاکہ ابھی اس کا کچھ سایہ باقی تھا، میں نے وہاں جگہ صاف کی اور کپڑابچھایا اور بارگاہ رسالت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہاں آکر آرام فرما لیجئے۔‘‘ آپ وہاں تشریف لا ئے اورلیٹ گئے،میں ماحول کا جائزہ لینے لگا کہ کوئی آتو نہیں رہا۔ دیکھا تو ایک چرواہا گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے میری طرف چٹان کے سایہ کےلیے بکریاں ہانکتےہوئے آ رہا ہے، جیسے ہی وہ قریب آیا میں نے پوچھا:’’ تم کس کے غلام ہو ؟‘‘اس نے ایک مکی یا مدنی شخص کانام لیا کہ میں اس کا غلام ہوں۔ پھر میں نے کہا :’’تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟‘‘ بولا: ’’ ہاں!‘‘میں نے کہا: ’’کیا میرے لیے دودھ دوھ سکتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں!‘‘ پھر اس نے دودھ دوھنے کے لیےایک بکری دبوچ لی۔میں نے کہا: ’’اس کے تھنوں سے گردو غبار صاف کرواور اپنے ہاتھ بھی اچھی طرح صاف کرلو۔‘‘ چنانچہ اس نے میرے حکم کی تعمیل کی اوردودھ دوھ کر ایک کٹورا بھر لیا۔نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے لیے میرے پاس پانی کا ایک برتن بھی تھاجس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپانی بھی نوش فرماتے اوروضو وغیرہ بھی کیا کرتے تھے۔میں دودھ لے کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہواتوآپ آرام فرما رہے تھے میں نے جگانامناسب نہ سمجھا لہٰذا وہیں بیٹھ کر آپ کے جاگنے کا انتظار کرنے لگ گیا۔جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بیدارہوئے تومیں نے دودھ میں پانی ملا کر اسے ٹھنڈا کیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! نوش فرمایئے۔‘‘توسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے نوش فرمایا۔جب آپ پی چکے تو ارشاد فرمایا: ’’کیا چلنے کا وقت نہیں ہوا؟‘‘میں نے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیوں نہیں۔‘‘پھر ہم نے اپنا سفر دوبارہ شروع کردیا۔     (صحیح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب المھاجرین و فضلھم، الحدیث: ۳۶۵۲،ج۲ ، ص۵۱۶)