فریاد امتی جو کرے حال زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو
غار میں جنت کا پانی
حضرت سیدناعبد اللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہغار میں جناب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے،جب سخت پیاس لگی تو انہوں نے نبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’غار میں اندرتک جائو اور پانی پی آئو۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:’’میں اندر گیا اور دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودارپانی پی کر آیا۔‘‘ آپ نے فرمایا:’’ پی آئے؟‘‘ عرض کیا :’’جی‘‘ فرمایا :’’ابوبکر ! تمہیں بشارت نہ دوں ؟‘‘ عرض کیا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیوں نہیں۔‘‘ فرمایا: ’’اللہ تعالٰینے جنتی نہروں کے نگران فرشتے سے فرمایا ہے کہ جنت الفردوس سے لے کر غار ثور تک نہر بنادو تاکہ ابوبکر سیراب ہوجائے۔‘‘ میں نے عرض کیا:’’کیا اللہکے ہاںمیری اتنی قدر و منزلت ہے ؟‘‘فرمایا :’’ہاں! اس سے بھی زیادہ ہےاور مجھے قسم ہے اس خدا کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا !تم سے بغض و حسد رکھنے والا جنت میں نہ جائے گا۔ خواہ ستر انبیاء کے اعمالِ صالحہ کا حامل ہو۔‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۱۵۰)
صدیق کی کہانی صدیق کی زبانی
حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے میرے والدحضرت سیدنا عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے تیرہ ۱۳درہم میں کجاوہ خریدا اور فرمایا:’’ اپنے برخوردار براء سے کہیے کہ اسے ہمارے گھر تک چھوڑ آئے۔‘‘ حضرت سیدنا عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’ ہر گز نہیں!پہلے آپ مجھے سفر ہجرت کا حال سنائیں۔ آپ لوگ کیسے مکۂ مکرمہ سے نکلے اور مشرکین کی تلاش کے باوجود اُن کے شرسے کیسے