سے لاکھ درجے بہتر ہے اس لئے کہ اس نے غارثور میں سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے غار کے دہانے (یعنی منہ) پر جالا بُنا تھا۔ (مکاشفۃ القلوب ، ص۵۷)
غار کے اُس پار سمندر نظر آیا
بعض سیرت نِگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب دشمن کے دیکھ لینے کا خدشہ ظاہر کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اگر یہ لوگ اِدھر سے داخِل ہوئے تو ہم اُدھر سے نکل جائیں گے۔‘‘عاشق اکبر سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جُوں ہی اُدھر نگاہ کی تو دوسری طرف ایک دروازہ نظر آیا جس کے ساتھ ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہاتھا اور غار کے دروازے پر ایک کشتی بندھی ہوئی تھی۔ (مکاشفۃ القلوب، ص۵۸)
تم ہو حَفیظ و مُغِیث کیا ہے وہ دُشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں دُرُود
آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمہاری ہے آس
بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں دُرُود
مصیبت میں آقا سے مدد مانگنا صحابہ کا طریقہ ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے سرورذِیشان،رحمت عالمیان، شاہ ِکون و مکان صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معجزۂ راحت نِشان مُلاحظہ فرمایاکہ غار ثور کی دوسری طرف آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نِگاہ پُرانوار کی برکت سے یار غار و یار مزار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوکشتی و سمندر نظر آئے اوریوں فیضانِ رِسالت سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چین وراحت محسوس فرمانے لگے ۔اس واقعے سے مزید یہ بھی پتا چلا کہ محبوب ربُّ العباد ، راحت ہرقلب ناشاد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حاجت و مصیبت کے وقت طلب امداد صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا طریقہ ہے:
وَاللہ ! وہ سُن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے
اِتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے