موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تَنتی نہ کبوتری انڈے دیتی ۔ کفار کی آہٹ پا کر عاشق اکبر حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کچھ گھبرا گئے اور عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اب دشمن ہمارے اس قدر قریب آگئے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں پر نظر ڈالیں گے تو ہمیں دیکھ لیں گے۔‘‘حضوراکرم،نور مجسم ، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ)(پ۱۰، التوبۃ:۴۰)ترجمۂ کنزالایمان: ’’غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘اعلیٰ حضرت، امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن مکے مدینے کے سلطان، سرورِ ذیشان ،سرکارِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس مُعجزۂ عالی شان اور خواریٔ دُشمنان کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جان ہیں، جان کیا نظر آئے
کیوں عَدو گردِ غار پھرتے ہیں
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
پھرعاشقِ اکبر حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر سکینہ اُتر پڑا کہ وہ بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو گئے اور چوتھے دن یکم ربیع النور بروز دوشنبہ (یعنی پیرشریف) حضور ِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غار سے باہر تشریف لائے اورمدینۂ منورہ روانہ ہو گئے۔ ( ماخوذ ازعجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص۳۰۳ تا ۳۰۴)
واہ رے مکڑی تیرا مقدر۔۔۔!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! محبوب رب اکبرصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کامیاب و بامُرادہوئے اور تلاش کرنے والے کفار بد اطوار ناکام ونامُراد ہوئے۔ مکڑی نے جستجو کا دروازہ بند کر کے غار کا دَہانہ یعنی منہ ایسا بنادیاکہ وہاں تک سُراغ رسانوں(یعنی جاسوسوں) کی سوچ بھی نہ پہنچ سکی اوروہ مایوس ہو کر واپس پلٹے اور مکڑی کو لازوال سعادت میسرآئی جس کو ’’مُکاشَفَۃُ القُلُوب‘‘ میں حضرت سیدنا ابن نقیب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَسِیْبنے کچھ یوں بیان کیا:’’ریشم کے کیڑوں نے ایسا ریشم بُنا جوحسن میں یکتا(یعنی بے مثال) ہے مگر وہ مکڑی ان