Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
223 - 691
 ایک نوجوان غار کا اندرونی جائزہ لینے کے لیے آگے بڑھااس نے دیکھا کہ دو کبوتریاں غارکے منہ پر گھونسلہ بنائے ہوئے ہیں وہ واپس چلاگیا، اس کے ساتھیوں نے کہا:’’تم نے غار میں کیوں نہیں جھانکا؟‘‘ وہ کہنے لگا : ’’غار کے منہ پر تو دو کبوتریوں نے گھونسلے بنائے ہوئے ہیں، اندر کوئی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی اندر گیا ہوتا تو گھونسلہ کیسے قائم رہتا؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے غار میں اس آدمی کی یہ بات سن لی اور جان لیا کہ اللہ تعالٰی نے ان دونوں کبوتریوں کے سبب اس غار سے اس مصیبت کو دور کر دیا ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اللہ تعالٰی نے کبوتروں کا اس خدمت کے صلہ میں حرمِ کعبہ اور حرمِ نبوی میں بسیرا بنا دیا۔‘‘  (المعجم الکبیر،مسندابو مصعب المکی ، الحدیث:۱۰۸۲،ج۲۰،ص۴۴۳)
غار پر خدائی پہرہ لگا دیا گیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں مقدس ہستیوں کی حفاظت کے ظاہری اسباب بھی پیدا فرما دیئے کہ جونہی جناب رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سیدناصدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی مَعِیَّت(یعنی ہمراہی) میں غارِ ثور میں داخِل ہوئے تو خدائی پہرہ لگا دیا گیا کہ غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا اور کَنارے پر کبوتری نے انڈے دے دئیے۔دعوت اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ۶۸۰ صفحات پر مشتمل کتاب ’’مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب‘‘کے صَفْحَہ ۱۳۲پر ہے :یہ سب کچھ کفّارِ مکہ کو غار کی تلاشی سے باز رکھنے کے لئے کیا گیا، اُن دو کبوتروں کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسی بے مثال جزا دی کہ آج تک حرم مکہ میں جتنے کبوتر ہیں وہ انہی دو۲ کی اولاد ہیں ، جیسے انہوں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی حفاظت کی تھی ویسے ہی رَبّ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی حرم میں اُن کے شِکار پر پابندی عائِدفرمادی۔  
(مکاشفۃ القلوب،ص۵۷)
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
جب کفار رقریش نے وہاں کبوتروں کا گھونسلا اور اُس میں انڈے دیکھے تو کہنے لگے: اگر اس غارمیں کوئی انسان